الازہر نے نائجیریا کے نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے پر زور دیا تاکہ دہشت گرد تنظیموں کی بھرتی کی کوششوں کو روکا جا سکے۔

نائجیریا کی حکام نے ہفتہ 16 اگست کو ایک فوجی آپریشن کے دوران شدت پسند تنظیم “انصار المسلمین فی بلاد السودان” کے دو سرغنوں، محمود محمد عثمان اور محمود النائجیری کو گرفتار کر لیا، یہ کارروائی جون اور جولائی کے درمیان انجام دی گئی۔ قومی سلامتی کے نائجیرین مشیر نوح ریبادو نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ دونوں افراد برسوں سے سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے اور انہوں نے مشترکہ طور پر متعدد حملوں کی قیادت کی، جن کا نشانہ عام شہری، سیکیورٹی فورسز اور اہم تنصیبات بنیں۔ صدر نائجیریا کے ترجمان بایو اونانوجا نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان مطلوب افراد کی گرفتاری کو “دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی” قرار دیا۔ قابل ذکر ہے کہ یہی تنظیم 2022 میں دارالحکومت ابوجا کی ایک جیل سے سینکڑوں قیدیوں کے فرار کی کارروائی، ریلوے لائن پر بم دھماکہ اور ابوجا سے شمال مغربی شہر کادونا جانے والی ٹرین پر حملے کی ذمہ دار ہے۔ اس حملے میں آٹھ افراد جاں بحق ہوئے اور درجنوں مسافر اغوا کر لیے گئے تھے، جنہیں کئی ماہ تک قید میں رکھا گیا۔ الازہر آبزرویٹری برائے انسدادِ انتہا پسندی نے نائجیریا کی حکومت کی دہشت گرد سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ شہریوں خصوصاً نوجوانوں میں شعور بیدار کیا جائے تاکہ ان دہشت گرد تنظیموں کی بھرتی کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے، کیونکہ یہ گروہ منظم حکمت عملی کے تحت نوجوانوں کے ذہنوں کو گمراہ کرتے اور حکومتوں کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ مزید برآں الازہر آبزرویٹری نے اس بات کی بھی توثیق کی کہ دہشت گرد تنظیموں کے سرغنوں کو گرفتار یا ختم کرنا ان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ خدشہ بھی رہتا ہے کہ یہ تنظیمیں جوابی کارروائی میں سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنائیں۔ اس لیے جان و مال کے تحفظ کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اپنانا نہایت ضروری ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى