چین کانفرنس میں مذہبی رواداری اور امتیاز کے خلاف موضوع پر خطاب کے دوران عالمی تنظیم برائے الازہر گریجوایٹس کے سربراہ ڈاکٹر عباس شومان نے کہا : اسلام تہذیبوں کے تصادم کو مسترد کرتا ہے اور بقائے باہمی کی دعوت دیتا ہے۔
پیر کی صبح عالمی تنظیم برائے الازہر گریجوایٹس کے صدر، سینیئر علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل اور اسلامک ریسرچ اکیڈمی کے رکن پروفیسر ڈاکٹر عباس شومان نے چین کی اکیڈمی آف سوشیال سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف چائنیز ہسٹری میں منعقدہ بین الاقوامی سائنسی کانفرنس کی افتتاحی نشست میں خطاب کیا۔ کانفرنس کا عنوان تھا: “مذہبی رواداری اور امتیاز کے خلاف اقدامات، عالمی تہذیبی پہل کے تناظر میں”۔ اس میں دنیا کے کئی ممالک سے علما اور محققین نے شرکت کی۔ تقریب میں عزت مآب ڈاکٹر محمد الجندی (سیکرٹری جنرل اسلامک ریسرچ اکیڈمی) اور ڈاکٹر حسن خلیل (اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے اسلامی ثقافت) بھی شریک تھے۔ ڈاکٹر شومان نے اپنی تقریر میں کہا کہ: انسانوں کا مذاہب اور مسالک میں اختلاف اللہ کی مشیت اور تقدیر کا حصہ ہے ، اسلام اس تنوع کے باوجود امت کی وحدت کی دعوت دیتا ہے، اسلامی تصورِ “امت” میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں شامل ہیں ، اللہ کے نزدیک فضیلت کا معیار نسل، رنگ یا حسب و نسب نہیں بلکہ تقویٰ ہے ، رسول اکرم ﷺ کی احادیث تعصب کی مذمت کرتی اور فرقہ واریت کو رد کرتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلافات سے نمٹنے کا بہترین راستہ مکالمہ اور باہمی فہم ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کی وہ آیات پیش کیں جو دین میں جبر سے منع کرتی ہیں، نرمی سے دعوت دینے اور عقیدے کی آزادی کے احترام کی تعلیم دیتی ہیں۔ اسلام غیر مسلم پرامن لوگوں کے ساتھ بھلائی اور حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے، معاہدوں کی پاسداری پر زور دیتا ہے اور تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کو تسلط و غلبے کا ہتھیار قرار دیتے ہوئے مسترد کرتا ہے۔ ڈاکٹر شومان نے وضاحت کی کہ:الازہر شریف اپنی عالمی و اندرونی کوششوں کے ذریعے مکالمہ اور بقائے باہمی کی ثقافت کو مضبوط کر رہا ہے ، ان کوششوں میں شامل ہیں: • مساوی شہریت کا اصول جس کی بنیاد میثاقِ مدینہ میں رکھی گئی۔ • تنوع و تکامل کی حمایت میں بین الاقوامی کانفرنسوں کا انعقاد۔ • مذاہب و ثقافتوں کے درمیان مکالمے کا مرکز قائم کرنا۔ • ویٹیکن اور ورلڈ کونسل آف چرچز کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کرنا۔ • 2011ء میں “بیت العائلہ المصریة” (مصری خاندانی گھر) کا قیام۔ • 2019ء میں “وثیقۃ الأخوۃ الإنسانیة” (انسانی اخوت کا منشور) کا اجراء۔ انہوں نے کہا کہ:مکالمے کو اپنانے کا مطلب اپنی دینی شناخت کو ترک کرنا یا دوسروں میں گھل جانا نہیں ہے ، بلکہ یہ ایسا تعاون ہے جس میں اپنے عقیدے اور وابستگی کی خصوصیات محفوظ رہتی ہیں ، یہی درست فہم ہے جس کی بدولت الازہر نے ایک طرف دنیا کے ساتھ کھلے پن کو اپنایا اور دوسری طرف اپنے اصولوں کی حفاظت بھی کی۔ آخر میں ڈاکٹر عباس شومان نے دنیا کی امن پسند قوتوں سے اپیل کی کہ وہ فیصلہ سازوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ جنگوں کو بھڑکانے اور قوموں کے وسائل لوٹنے سے باز آئیں، اور تسلط کے منطق کو ترک کریں۔ انہوں نے فوری اقدام کا مطالبہ کیا تاکہ جنگوں کا خاتمہ ہو، بالخصوص غزہ پر صیہونی جنگ جسے انہوں نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جرم قرار دیا جس میں کھلے عام قتل، بھوک اور تباہی کی جا رہی ہے اور بعض بڑی طاقتیں اس کی کھلم کھلا حمایت کر رہی ہیں