الازہر گریجوایٹس ” کا انتہا پسندی کے دعوؤں کا رد اور غیر ملکی طلبہ میں اعتدال پسند سوچ کو فروغ “ سابق ڈین کلیہ اصول الدین: ازہر انتہا پسند فکر کا “مقابلہ کرتا ہے اور اجتہاد کے لیے واضح اصول وضع کرنے کا مطالبہ کرتا ہے

عالمی تنظیم برائے الازہر گریجوایٹس نے اپنے مرکزی دفتر قاہرہ میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی طلبہ کے لیے “عصرِ حاضر میں انتہا پسندی کی صورتیں اور مظاہر” کے عنوان سے ورکشاپ منعقد کی۔ اس موقع پر جامعہ ازہر کے کلیہ اصول الدین کے پروفیسر اور علمِ عقیدہ کے ماہر ڈاکٹر عبد اللہ محیی عزب نے اپنے لیکچر میں کہا کہ موجودہ دور کی بعض سلفی جماعتیں اور انتہا پسند و دہشت گرد گروہ معاشروں پر کفر اور بدعت کے فتوے لگاتے ہیں، حتیٰ کہ میلاد النبی ﷺ کی تقریبات کو بھی ناجائز قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سخت گیر لوگ معاشروں کو “کافر” سمجھتے ہیں اور ایک نام نہاد “دارالاسلام” قائم کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ وہ شہریت اور پُرامن بقائے باہمی کے اصول کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ لوگ نصوصِ وحی کو محض ظاہر پرستی کے ساتھ لیتے ہیں، عقل و تدبر کا استعمال نہیں کرتے، جبکہ ازہر اور اس کے ادارے نہ صرف ان کی متضاد سوچ کا رد کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اُن بعض روشن خیال داعیوں کے غلو کو بھی مسترد کرتے ہیں جو نصوص کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ ڈاکٹر محیی عزب نے مزید کہا کہ اجتہاد کا دروازہ ان مسائل میں کھلا ہے جو بنیادی عقائد اور قطعیات سے ہٹ کر ہوں، لیکن یہ سخت شرائط اور ضوابط کے ساتھ مشروط ہے، جو انتہا پسندوں میں پائے ہی نہیں جاتے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اشاعرہ اور ماتریدیہ کا طریقِ کار یہ رہا ہے کہ وہ صرف اُن مسائل میں تاویل کرتے ہیں جن میں تشبیہ، تجسیم یا بظاہر نصوص میں تعارض پایا جائے، اور اس کے علاوہ غیبی امور میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ ورکشاپ ان سلسلہ وار سرگرمیوں میں سے ایک ہے جو عالمی تنظیم برائے الازہر گریجوایٹس غیر ملکی طلبہ کے لیے منعقد کر رہی ہے، تاکہ انتہا پسندانہ فکر کی ختم کیا جا سکے اور اعتدال پسند، روشن فکر ازہری پیغام کو عام کیا جا سکے

زر الذهاب إلى الأعلى