الازہر آبزرویٹری نے ایسٹ سسیکس میں مسجد پر حملے کی شدید مذمت کی اور اسے “نفرت انگیز جرم” قرار دیا

الازہر آبزرویٹری برائے انسدادِ انتہاپسندی نے برطانیہ کی کاونٹی ایسٹ سسیکس میں ایک مسجد کو نشانہ بنانے والے جان بوجھ کر لگائے گئے آتشزدگی کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اسے نفرت پر مبنی جرم (Hate Crime) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مسجد کے ایک رضاکار، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش کی، نے بتایا کہ دو افراد نے مسجد کے بند اگلے دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کی، پھر دروازے اور قریب کھڑی گاڑی پر کوئی مائع (جلنے والا مادہ) چھڑک کر آگ لگا دی۔ ان کے مطابق، “یہ واقعہ ایک قتل کی واردات میں تبدیل ہو سکتا تھا”، کیونکہ اس وقت مسجد کے اندر دو افراد موجود تھے جو بمشکل جان بچا کر نکل سکے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دو نقاب پوش افراد کو مسجد کے دروازے کے قریب آتے ہوئے اور اس کے بعد آگ لگنے کا منظر دکھایا گیا ہے، تاہم بی بی سی ابھی تک ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکی ہے۔ Description: ⭕ عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے اپیل الازہر آبزرویٹری نے برطانیہ میں عبادت گاہوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ رواداری اور باہمی احترام کی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مرصد کے مطابق، ایسے اقدامات نہ صرف مسلم کمیونٹی کی توہین ہیں بلکہ سماجی امن کے لیے خطرہ اور معاشرتی تقسیم اور خوف کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ الازہر آبزرویٹری نے فائر بریگیڈ اور برطانوی پولیس کی فوری کارروائی کو سراہا، تاہم ساتھ ہی زور دیا کہ تمام عبادت گاہوں خواہ وہ مساجد ہوں، گرجا گھر ہوں یا مندر کے تحفظ کے اقدامات کو مزید مضبوط کیا جائے، اور پرامن بقائے باہمی اور نفرت کے خاتمے کی ثقافت کو فروغ دیا جائے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مذہبی مقامات اور علامتوں پر حملے بڑھتے جا رہے ہیں

زر الذهاب إلى الأعلى