شیخ الازہر نے روم (اٹلی) میں منعقدہ عالمی کانفرنس “امن کے قیام کے لیے جرات پیدا کرنا” کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہ ہو، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

گرینڈ امام شیخ الازہر ، پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب اور مسلم کونسل آف ایلڈرز کے صدر، نے اٹلی کے دارالحکومت روم میں “سانت إيجيديو” تنظیم کی جانب سے منعقدہ عالمی کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس کا عنوان تھا: “امن کے لیے عالمی ملاقات: امن کے قیام کے لیے جرات پیدا کرنا”، جس میں اٹلی کے صدر سرجیو ماتاریلا، بیلجیم کی ملکہ ماتیلدا، اور دنیا بھر کے ممتاز مذہبی رہنما اور مفکرین شریک ہوئے۔ اپنے خطاب میں شیخ الازہر نے فرمایا کہ مطلق عدل کا تصور وہ سنہری اصول ہے جس پر آسمان و زمین کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی عدل کو انسان کے حقوق برابری، آزادی، عزت، سلامتی، اور انسانی بھائی چارے کی ضمانت بنایا، خواہ انسانوں میں نسل، رنگ، جنس، مذہب یا زبان کا فرق کیوں نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ جدید تہذیب نے دانستہ طور پر ان بنیادی انسانی قدروں کو نظرانداز کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایسی بے مقصد جنگیں شروع ہوئیں جو ان غریب قوموں پر مسلط کی گئیں جن کے پاس اپنے دفاع کے لیے نہ وسائل ہیں نہ سازوسامان۔ ان حملہ آور قوموں کے دل سخت اور ضمیر مردہ ہیں، وہ انسان کی حرمت کا مذاق اڑاتے ہیں ۔اس حرمت کا جسے اللہ نے اپنی آسمانی کتابوں اور الہامی وحی میں محترم قرار دیا ہے۔ شیخ الازہر نے مزید کہا کہ ان جنگوں کے نتیجے میں غربت، بے روزگاری، قحط، قرضوں کا بوجھ، بیماریوں اور ماحولیاتی بحرانوں نے دنیا کو تقسیم کر دیا ہے—ایک طرف عیش و آرام میں ڈوبا ہوا شمال ہے، اور دوسری طرف غربت، بھوک اور تباہی میں مبتلا جنوب۔ گرینڈ امام نے مزید فرمایا کہ ہمارے مشرقِ امن میں لڑی جانے والی جنگیں عبرت کا نمونہ ہیں۔ جب بھی ان جنگوں کی پہلی چنگاری بھڑکتی ہے، تو اس کے ساتھ ہی تباہی اور ظلم و بربریت کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ گھروں کو ان کے مکینوں سمیت ملبے میں بدل دیا جاتا ہے، ہزاروں عورتیں، بوڑھے اور نوجوان دربدر ہو جاتے ہیں، بچے بھوک سے مر جاتے ہیں، اور انسان کی عزتِ نفس کو پامال کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اکیسویں صدی کے مہذب دنیا کے سامنے ہوتا ہے، اور افسوس کہ ایسی آزادی اور انصاف پر لعنت ہو جو کمزور سے زندگی کا حق چھین لے اور ظلم کو جائز قرار دے۔ شیخ الازہر نے اقوامِ متحدہ کے حالیہ اجلاسوں میں ان ممالک کی تعریف کی جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔ انہوں نے فرمایا:میں ان تمام ممالک کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی جرات دکھائی۔ یہ جرات دراصل انسانیت کے زندہ ضمیر کی بیداری اور فلسطینی عوام کے حق کے دفاع کی علامت ہے۔ ہم سب کو امید ہے کہ یہ اقدام فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کی عملی پیش رفت ثابت ہوگا، جن میں سب سے اہم ہے آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔” انہوں نے مزید کہا کہ آج بین الاقوامی برادری اس بات پر متفق ہے کہ “دو ریاستی حل” ہی خطے اور دنیا میں امن کا واحد راستہ ہے، اور مشرقِ وسطیٰ میں امن فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ممکن نہیں۔ آخر میں شیخ الازہر نے دنیا بھر کے باعزت اور باشعور لوگوں عورتوں، مردوں، بچوں اور بزرگوں کو سراہا جن کی آوازیں غزہ میں جاری قتلِ عام کے خلاف بلند ہوئیں۔ انہوں نے فرمایا کہ غزہ کے یہ مظالم انسانیت کے دل کو چیر گئے، ضمیر کو قتل کر دیا، اور جدید تاریخ کے دامن پر سیاہ دھبہ بن گئے۔

زر الذهاب إلى الأعلى