ڈاکٹر محمد عثمان کی لبنان کے ائمہ اور واعظات سے گفتگو: مقاصد کے ادراک کی مہارت فتوی کے اجراء کیلیے ضروری ہے۔

____________________
ڈاکٹر محمود عثمان (استاذ جامعة الازھر، رکن اسلامک ریسرچ کمپلیکس) نے کہا کہ مفتیان کرام کو اس دور میں جن عصری مسائل کا سامنا ہے ان کا انحصار ایسے اجتہاد پر ہے جو مفتی میں مہارات کے توافر کا محتاج ہے ، اور فتوی کے اجراء کیلیے مقاصد کے ادراک کی مہارات سے آراستہ ہونے کی تاکید کی۔
یہ انہوں نے ایک تربیتی کورس میں اپنے لیکچر ( بر عنوان: فتوی کے اجراء کیلیے مقاصد کا ادراک) میں کہا، اس کورس کا انعقاد لبنان کے ائمہ اور واعظات کیلیے عالمی تنظیم برائے الازہر گریجویٹس نے الازہر انٹرنیشنل اکیڈمی کے تعاون سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کیا۔ اور ڈاکٹر عثمان نے مجتہد کی شروط بیان کیں جن میں سے انسان کا ذہین اور حاضر دماغ اور ترجیحی علوم کا ماہر ہو، جو کہ قران کریم اور صحیح سنت مطہرہ ہیں۔ اور یہ کہ وہ فقہی دلائل میں ائمہ کرام کے اجماع اور اختلاف کو اجمالا اور تفصیلا جانتا ہو، اور فقہاء کے ان مصادر سے استنباط کے اصولوں کو بھی جانتا ہو اس بات کی تاکید کے ساتھ کہ ان علمی مصادر کو مجتہد کی نگاہ میں بہت اہمیت حاصل ہے۔
انہوں نے مزید یہ کہا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم تک تمام شریعتیں لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور خرابی کو ان سے دور کرنے کیلیے آئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شریعتیں جن احکام کے ساتھ نازل ہوئیں انہیں اللہ کریم نے اپنے فضل اور رحمت سے انسان کو نفع پہنچانے اور خرابی کو دور کرنے کے لیے نازل کیا۔ اور یہی وہ چیز ہے جو فقہاء کو عصری مسائل کے احکام اخذ کرنے کیلیے نصوص کے ساتھ ساتھ اسباب اور علل سے بہرہ ور کرتی ہے۔
ڈاکٹر عثمان نے مزید کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات مبارکہ ہی پہلی شخصیت ہے جس نے اجتہاد کی مہارت کی طرف رہنمائی فرمائی اور اسے اپنے صحابہ کرام کے ذہنوں میں پختہ کر دیا، پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت مبارکہ اجتہادی مہارات پر اعتماد اور بہت سے مواقع پر صحابہ کرام کے اذہان اور افعال میں اسکی پختگی سے بھری پڑی ہے۔ اس پر تاکید یوں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تمام جہانوں کیلیے رحمت بنا کر بھیجا گیا اور لوگوں کے لیے فائدہ پہنچانے اور نقصان کو ان سے دور کرنے کیلیے بھیجا گیا اور اس بات کی تاکید قران مقدس کے اس فرمان سے ہو جاتی ہے “( وما أرسلناك إلا رحمةً للعالمين) ہم نے آپکو تمام جہانوں کیلیے رحمت بنا کر بھیجا ہے” سے ہو جاتی ہے۔
لیکچر کے آخر میں ڈاکٹر محمود عثمان نے مصالح اور مفاسد کے تعارض کو پہچاننے کی مہارت اور ان میں توازن تلاش کرنے کی اہمیت سے آگاہ کیا اور ساتھ ہی انہیں نقصان کے ازالہ اور مشکل اور تنگی کو دور کرنے کی مہارت کی ضرورت کی طرف تشجیع دلائی۔ اس پر تاکید یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جن بھی دو چیزوں میں اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان کو اختیار کیا جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو یا گناہ کی طرف لے جانے والی نہ ہو۔
اسی طرح کورس کے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیئے اور انہیں تراث کی کتابیں پڑھنے اور فتوی کے اجراء کیلیے انتہائی اہم مقاصد کے ادراک کی نصیحت کی۔

زر الذهاب إلى الأعلى