الازہر آبزرویٹری : داعش نے جھیل چاڈ کے طاس کے ممالک کے خلاف اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا اور خبردار کیا: یہ خطرناک اضافہ مغربی افریقہ میں دہشت گردی کے بڑھنے کی نشاندہی کرتا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جھیل چاڈ کے طاس کے علاقے میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں داعش مغربی افریقہ مسلسل شمال مشرقی نائجیریا اور جنوب مشرقی نائیجر میں فوجی اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے، اور چاڈ اور کیمرون میں بارودی سرنگوں والے گھات لگا کر حملے کر رہا ہے۔ ان حالیہ حملوں کے نتیجے میں درجنوں فوجی اور شہری ہلاک و زخمی ہوئے ہیں، جبکہ سینکڑوں خاندان جھیل کے کنارے واقع دیہات سے ہجرت پر مجبور ہوگئے ہیں۔ داعش اس شدت کے ذریعے جھیل کے راستے اسمگلنگ اور رسد کی راہوں پر قبضہ جمانا چاہتا ہے، جو اس کے لیے ایک اسٹریٹجک ذریعہ ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ خراب معاشی حالات اور سرحدوں پر سکیورٹی کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹوں نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ ساحل اور جھیل چاڈ کے علاقے میں دہشت گردانہ حملے پیچیدہ صورت اختیار کر رہے ہیں، کیونکہ تنظیم ڈرون طیارے اور مقامی طور پر تیار کردہ بم استعمال کر رہی ہے، جو اس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب نائجیریا اور اس کے ہمسایہ ممالک سنگین انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں؛ جہاں لاکھوں بے گھر افراد بھوک اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث موت کے خطرے سے دوچار ہیں، جس کی وجہ سے محروم طبقات کو داعش جیسے دہشت گرد گروہوں میں شامل کرنا آسان ہو رہا ہے۔ اسی لیے الازہر آبزرویٹری اس بات پر زور دیتا ہے کہ داعش کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جھیل چاڈ کے طاس کے ممالک (نائجیریا، نائیجر، چاڈ، کیمرون) کو علاقائی تعاون کو مضبوط بنانا ہوگا، جس میں سکیورٹی معلومات کا تبادلہ، فوجی کارروائیوں کی ہم آہنگی، اور انسانی حالات میں بہتری کے لیے متاثرہ خاندانوں اور پناہ گزینوں کی مدد شامل ہے؛ کیونکہ بنیادی سہولیات اور باعزت زندگی کی عدم دستیابی انتہاپسند تنظیموں کے اثرورسوخ کے لیے زرخیز میدان فراہم کرتی ہے۔ مزید برآں، الازہر آبزرویٹری اس امر پر بھی زور دیتا ہے کہ داعش کے پروپیگنڈا بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے مقامی سطح پر بیداری پروگرام چلائے جائیں، خاص طور پر دور دراز سرحدی علاقوں میں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ خطے کے ممالک ترقی اور مقامی سرمایہ کاری کے اقدامات میں یکجہتی کا مظاہرہ کریں تاکہ بے روزگاری اور غربت میں کمی لائی جاسکے، کیونکہ یہی دو بڑے عوامل ہیں جو نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے پر آمادہ کرتے ہیں۔