الازہر آبزرویٹری : معاشروں کو انتہا پسندانہ سوچ سے محفوظ بنانے کے لیے شہری و دینی آگاہی پروگرام ضروری ہیں

الازہر آبزرویٹری برائے انسدادِ انتہا پسندی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جاری سیکیورٹی آپریشنز دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں افغانستان کی سرحدی علاقوں، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑھ رہی ہیں۔ آبزرویٹری کی نشاندہی ہے کہ ان گروہوں کی جنگی حکمتِ عملی میں پیش رفت ایک نیا چیلنج ہے، جو وفاقی اور علاقائی سطح پر اسٹریٹیجک تعاون کا متقاضی ہے۔ مزید یہ کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے مربوط سیکیورٹی اقدامات کی تسلسل کے ساتھ ضرورت ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی ناگزیر ہے کہ معاشروں کو شہری و مذہبی آگاہی پروگراموں کے ذریعے انتہا پسندی سے محفوظ کیا جائے۔ آبزرویٹری نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی پہلو تک محدود نہیں بلکہ ان نظریات کا مقابلہ بھی ضروری ہے جو اس تشدد کو فروغ دیتے ہیں۔ پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے اعلان کیا تھا کہ شمال مغربی علاقے جنوبی وزیرستان کی بالائی حدود میں تحریک طالبان پاکستان کے حملے میں 12 فوجی جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے۔ یہ اچانک حملہ اس وقت ہوا جب ایک فوجی قافلہ “فاقر سراي” کے علاقے سے گزر رہا تھا، جہاں شدت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ دو اطراف سے قافلے پر حملہ کر دیا اور بعد ازاں بعض فوجیوں کے ہتھیار لے کر فرار ہوگئے

زر الذهاب إلى الأعلى