الازہر آبزرویٹری کا اشاریہ: ستمبر 2025 میں پاکستان میں 19 دہشت گرد حملے ریکارڈ

ازہر آبزرویٹری برائے انسدادِ انتہا پسندی نے ستمبر کے مہینے کے دوران پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کا ماہانہ اشاریہ جاری کیا۔ Description: ⭕ دہشت گرد حملوں کی تفصیلات اور سکیورٹی اداروں کا ردعمل رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 19 دہشت گرد حملے ہوئے جن کے نتیجے میں فوج اور پولیس کے 45 اہلکار اور 50 عام شہری جاں بحق ہوئے، جب کہ تقریباً 12 افراد زخمی ہوئے۔ ان حملوں میں سب سے زیادہ ملوث تنظیم تحریک طالبان پاکستان تھی، جب کہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں، خصوصاً بلوچ لبریشن آرمی (بلوچستان لبریشن آرمی)، بھی ان کارروائیوں میں شامل تھیں۔ دہشت گردی میں اس اضافے کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے 12 بڑے آپریشنز کیے۔ ان کارروائیوں کے دوران کئی حملوں کو ناکام بنایا گیا جو عام شہریوں اور سکیورٹی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے جا رہے تھے۔ اسی دوران ہونے والی جھڑپوں میں 147 دہشت گرد ہلاک اور 4 گرفتار کیے گئے۔ Description: ⭕ دہشت گردی کے مراکز اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقے مرصد کے مطابق، زیادہ تر دہشت گرد حملے افغانستان کی سرحد سے متصل علاقوں میں ہوئے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے صوبوں میں۔ رپورٹ کے مطابق، بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا، جس کے بعد خیبر پختونخوا کا نمبر آتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومتِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے، اور انسدادِ دہشت گردی کے محکمے ان علاقوں میں دہشت گردی کی ہر شکل کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کریں

زر الذهاب إلى الأعلى