گرینڈ امام ، شیخ الازہر نے عالمی کونسل آف چرچز کے نوجوان وفد سے سلام کی اعتدال پسندی اور مذاہب کے درمیان مکالمے کی اہمیت ہر لیکچر دیا ۔ “ہماری امیدیں آپ نوجوانوں سے وابستہ ہیں تاکہ آپ ہماری دنیا میں جاری بے مقصد جنگوں کا مقابلہ کریں۔”
_________________
گرینڈ امام شیخ الازہر ، پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب نے مشیخة الازہر میں عالمی کونسل آف چرچز (World Council of Churches) کے نوجوانوں کے وفد کا خیر مقدم کیا۔ وفد نے الازہر شریف کی جانب سے امن، بھائی چارے اور مکالمے کی اقدار کے فروغ کے لیے کی جانے والی کاوشوں سے آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر شیخ الازہر نے “اسلام کی اعتدال پسندی اور مذاہب کے درمیان مکالمے کی اہمیت” کے موضوع پر لیکچر دیا۔ شیخِ الازہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ تمام مذاہب کی اصل تعلیم محبت اور امن ہے، اور کبھی بھی نفرت یا اختلافات کو ہوا دینے کے لیے نہیں آئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ الازہر شریف عالمی امن کے قیام کے مشن سے وابستہ ہے اور دنیا میں حقیقی امن کے فروغ کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم نے ویٹی کن، عالمی کونسل آف چرچز، اور مشرقِ وسطیٰ کی کلیسیائی کونسلز کے ساتھ تعاون کے پل تعمیر کیے ہیں۔” شیخ الطیب نے مزید بتایا کہ انہوں نے عالمی کونسل آف چرچز کا دورہ بھی کیا اور مرحوم پوپ فرانسس کے ساتھ متعدد بین المذاہب مکالماتی اجلاسوں میں ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کا نتیجہ “انسانی اخوت کی عالمی دستاویز” (Document on Human Fraternity) کی صورت میں سامنے آئی، جسے اقوامِ متحدہ نے تسلیم کرتے ہوئے 4 فروری کو ہر سال “یومِ اخوتِ انسانی” کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ شیخ الازہر نے مزید کہا کہ الازہر کا پیغام مقامی اور عالمی سطح پر امن کا فروغ ہے۔ مصر کے اندر ہم نے “بیت العائلہ المصریة” (مصری خاندانی گھر) قائم کیا، جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان تعاون، برداشت اور بھائی چارے کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی جذبے کے تحت الازہر نے “اقلیت” کے بجائے “شہریت (المواطنة)” کی اصطلاح کو فروغ دیا، تاکہ سب کو برابر کا شہری سمجھا جائے۔ اسی مقصد کے لیے 2017 میں “الازہر عالمی کانفرنس برائے آزادی و شہریت” بھی منعقد کی گئی۔ آخر میں شیخِ الازہر نے کہا کہ دنیا میں جاری بے مقصد جنگوں کے خلاف امید آج کے نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ طاقتیں اسلحے کی تجارت کے ذریعے اپنی معیشت مضبوط کر رہی ہیں، چاہے اس کے نتیجے میں بے گناہ لوگ مارے جائیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ امن کے پیامبر بنیں اور نفرت، تشدد اور جنگ کے خلاف آواز بلند کریں، کیونکہ “آج جو خواتین، بچوں اور بوڑھوں کے قتل عام کی شکل میں درندگی دیکھی جا رہی ہے، وہ حیوانوں کی دنیا میں بھی نہیں پائی جاتی۔